مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كره الفداء بالدراهم وغيرها باب: جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
٣٥٤٧٣ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن حبيب (١) أبي يحيى أن خالد بن زيد (وكانت عينه) (٢) أصيبت بالسوس (٣)، قال: حاصرنا مدينتها فلقينا جهدا وأمير المسلمين أبو موسى، وأخذ الدهقان عهده وعهد من معه، فقال أبو موسى، (اعزلهم) (٤)، فجعل (يعزلهم) (٥)، وجعل أبو موسى يقول لأصحابه: إني أرجو أن يخدعه اللَّه عن نفسه، فعزلهم وبقي عدو اللَّه فأمر به أبو موسى (ففادى) (٦) (وبذل) (٧) مالا كثيرا، فأبى وضرب عنقه (٨).حضرت خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جن کی آنکھ سوس کے علاقہ میں جہاد میں شھید ہوچکی تھی، فرماتے ہیں کہ ہم نے کفار کے علاقہ کا محاصرہ کیا، ہمیں بڑی مشقت پیش آئی، اس وقت ہمارے امیر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تھے، ایک دھقان نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان طلب کی اور چھٹکارا چاہا۔ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا، ان کو علیحدہ کرو، دھقان نے ان کو علیحدہ کرنا، شروع کردیا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے لگتا ہے کہ یہ دھوکہ دے گا۔ پھر جب اس دھقان نے اپنے خاندان والوں کو نکال لیا تو پھر جنگ کے لیے تیار ہوگیا۔ پھر جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو اس نے بہت سے فدیے کی پیش کش کی۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔