مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الفارس كم يقسم له؟ من قال: ثلاثة أسهم؟ باب: گھوڑا سوار کو کتنا حصہ ملے گا؟
٣٥٣٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عمرو بن ميمون قال: كتب عمر ابن عبد العزيز إلى أهل الجزيرة أما بعد: فإن السهام كانت على عهد رسول اللَّه ﷺ: سهمين للفرس، وسهما للرجل، فلم أظن أن أحدا هَمَّ بانتقاص فريضة منها حتى فعل ذلك رجال ممن يقاتل هذه الحصون، فأعيدوا سهمانها على ما كانت عليه على عهد رسول اللَّه ﷺ: سهمين للفرس وسهما للرجل، وكيف (توضع) (١) سهمان الخيل (وهي) (٢) بإذن اللَّه لمسرحهم بالليل (ولمسالحهم) (٣) بالنهار، ولطلب ما يطلبون.حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جزیرہ والوں کو لکھا : اما بعد ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں گھوڑے کیلئے دو اور سوار کیلئے ایک حصہ مقرر تھا، پھر کیوں کوئی شخص ان کے حصہ کو کم کرنے کے ارادہ سے شک اور تردد میں ڈالتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کو بنادیا ان میں سے جو لوگ ان قلعوں میں قتال کرتے ہیں جو حصے ان کے رسول اکرم ﷺ کے دور میں تھے وہ ان کو لوٹا دو ، وہ حصے یہ تھے کہ گھوڑے کیلئے دو اور اس کے سوار کیلئے ایک حصہ مقرر تھا، گھوڑے کے حصہ کو کیسے کم کرتے ہو حالانکہ وہ اللہ کے حکم سے رات میں چرا گاہ میں پھرتے ہیں، اور دن میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ گھوڑے وہی طلب کرتے ہیں جو مجاہدین طلب کرتے ہیں۔