مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من جعل السلب للقاتل باب: جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
٣٥٣٠٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن حسان عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال: كان السلب (لا) (١) يخمس، فكان أول سلب خُمّس في الإسلام سلب البراء بن مالك، وكان حمل على مرزبان الزأرة فطعنه بالرمح حتى دق (قربوس) (٢) السرج، ثم نزل إليه فقطع منطقته وسواريه، قال: فلما قدمنا المدينة صلى عمر بن الخطاب صلاة الغداة، ثم (أتانا) (٣) (٤) فقال: السلام عليكم أثم أبو طلحة، فقال: نعم، فخرج إليه فقال عمر: إنا كنا لا نخمس السلب، وإن سلب البراء (بن مالك) (٥) مال وإني خامسه، فدعا المقومين (فقوموا) (٦) ثلاثين ألفا فأخذ (منه) (٧) ستة آلاف (٨).حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلا خمس جو مقتول کے مال سے لیا گیا وہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے مقتول کے سامان سے لیا گیا ۔ اس طرح کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مرزبان زارہ پر حملہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ایک سرے میں گھس گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس کی کمر بند اور اس کے کنگنوں کو کاٹ کر اتار لیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کرنے کے بعد پوچھا : کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! میں ہوں۔ اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نکل آئے ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ اور یقینا براء کے مقتول کا سامان بہت بڑا مال ہے۔ یقینا میں اس کا خمس لوں گا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے قیمت لگانے والوں کو بلایا تو انہوں نے اس کی تیس ہزار قیمت لگائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے چھ ہزار وصول کرلیے۔