مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يأخذ المال للجهاد ولا يخرج باب: جن لوگوں نے اس آدمی کے بارے میں یوں کہا: جو جہاد کے لیے مال تو لے لے اور جہاد کے لیے نہ نکلے
٣٥٠٣٠ - حدثنا أبو أسامة قال: (ثنا) (١) إسحاق بن سليمان (٢) الشيباني عن أبيه قال: حدثني عمرو بن أبي قرة قال: جاءنا كتاب عمر بن الخطاب أن (ناسًا) (٣) يأخذون من هذا المال يجاهدون في سبيل اللَّه ثم يخالفون ولا يجاهدون، فمن فعل ذلك منهم فنحن أحق بماله حتى (نأخذ) (٤) منه ما أخذ (٥).حضرت عمرو بن ابی قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا : آپ رحمہ اللہ نے لکھا تھا : بیشک کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس مال میں سے حصہ لیتے ہیں کہ وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کریں گے پھر وہ اس کے خلاف کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے ۔ پس ان میں جو شخص بھی ایسا کرے تو ہم اس مال کے زیادہ حقدار ہیں یہاں تک کہ ہم اس سے وہ مال وصول کرلیں گے جو اس نے لیا تھا۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت یسیربن عمرو کے پاس اٹھ کر گیا اور میں نے عرض کیا : آپ رحمہ اللہ کی کیا رائے ہے اس حدیث کے بارے میں جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھے بیان کی ہے ؟ اور میں نے وہ حدیث حضرت یسیر سے بیان کی۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس نے سچ کہا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط لایا تھا۔