مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من قال: الإمام مخير في المحارب، يصنع فيه ما شاء؟ باب: جن حضرات کے نزدیک امام کو محارب کے بارے میں اختیار ہے کہ اس کے بارے میں جو چاہے کرے
حدیث نمبر: 35002
٣٥٠٠٢ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن عمرو عن عمر بن عبد العزيز قال: السلطان ولي (قتلى) (١) من حارب الدين وأن قتل أخا امرئ وأباه، فليس إلى من يحارب الدين ويسعى في الأرض فسادا سبيل -يعني دون السلطان، ولا يقصر عن الحدود بعد أن تبلغ إلى الإمام، فإن إقامتها من السنة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ سلطان اس شخص کے قتل کا نگران ہے جو دین میں بگاڑ کا سبب بنے۔ سلطان کے علاوہ کسی کو اس کا اختیار نہیں۔ جب حدود امام کے پاس پہنچ جائیں تو ان کی معافی کی کوئی صورت نہیں اور ان کا قائم کرنا سنت ہے۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (قتل).