مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الرجل يسلم على يدي رجل ثم يموت: من قال: يرثه؟ باب: اس آدمی کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، پھر مر جائے، کون حضرات ہیں جو فرماتے ہیں کہ وہ اس کا وارث ہو گا
حدیث نمبر: 33732
٣٣٧٣٢ - حدثنا عبد السلام عن خصيف عن مجاهد أن رجلًا أتى عمر فقال: إن رجلا أسلم علي يدي فمات وترك ألف درهم، (فتحرجت) (١) منها، فرفعتها إليك، فقال: أرأيت لو (جنى جناية) (٢) على من كانت تكون؟ قال، علي، قال، فميراثه لك (٣).مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ایک آدمی میرے ہاتھ پر اسلام لایا پھر مرگیا اور اس نے ایک ہزار درہم چھوڑے، میں اس سے پریشان ہوا اور آپ کے پاس لایا ہوں، آپ نے فرمایا اگر وہ کوئی جنایت کرتا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوتی ؟ اس نے کہا کہ مجھ پر، فرمایا کہ پھر اس کی میراث بھی تمہارے لئے ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (فخرجت).
(٢) في [ب]: (خبا خباية).