مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
الصبي يموت وأحد أبويه مسلم لمن ميراثه منهما؟ باب: اس بچے کا بیان جو مر جائے اور اس کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو ، کہ اس کی میراث ان دونوں میں سے کس کے لئے ہو گی
حدیث نمبر: 33602
٣٣٦٠٢ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه قال: إذا ماتت (امرأة) (١) يهودية أو نصرانية تحت مسلم له منها أولاد صغار، فإن الولد مع أبيهم المسلم، فإن ماتوا وهم صغار فميراثهم لأبيهم المسلم، ليس لأمهم من الميراث شيء ما داموا صغارًا.مولانا محمد اویس سرور
ہشام حسن سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہودی یا نصرانی عورت مرجائے اور وہ مسلمان کے نکاح میں ہو جس سے اس کی نابالغ اولاد ہو تو بچہ اپنے مسلمان باپ کے ساتھ ہوگا، پس اگر وہ بچپن ہی میں مرجائیں تو ان کی میراث ان کے مسلمان باپ کے لئے ہوگی، اور ان کی ماں کا میراث میں کچھ حصّہ نہیں، جب تک وہ نابالغ ہوں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].