مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في ولد الزنا يدعيه الرجل يقول هو: (ابني)، هل يرثه؟ باب: ولد الزنا کا بیان جس کے نسب کا کوئی آدمی دعویٰ کرے اور وہ کہے کہ یہ میرا باپ ہے، کیا وہ اس کا وارث ہو گا؟
حدیث نمبر: 33549
٣٣٥٤٩ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن ابن طاوس قال: قلت له: ما كان أبوك يقول في ولد الزنا (يعتقه) (١) مواليه أو سادته (فيستلحقه) (٢) أبوه وقد علم (مواليه) (٣) أنه ابنه؟ قال: كان يقول: لا يرث.مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کے بیٹے سے پوچھا کہ آپ کے والد اس ولد الزنا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کو اس کے آقا یا اس کے سردارآزاد کردیں اور پھر اس کا والد اس کے نسب کا اقرار کرلے، جبکہ اس کے آقاؤں کو یہ علم ہو کہ یہ اس کا بیٹا ہے ؟ انہوں نے فرمایا، کہ وہ فرماتے تھے، کہ وہ وارث نہیں ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (معصه).
(٢) في [أ]: (فيستحلفه).
(٣) سقط من: [هـ].