مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في ابن (ملاعنة) مات وترك أمه، ما لها من (ميراثه) باب: لعان کرنے والی عورت کا بیٹا فوت ہو جائے اور اپنی ماں کو چھوڑ جائے تو اس کو اپنے بیٹے کی وراثت میں سے کیا حصّہ ملے گا؟
حدیث نمبر: 33446
٣٣٤٤٦ - حدثنا عباد بن العوام عن (عمر) (١) بن عامر عن حماد عن إبراهيم عن عبد اللَّه قال في ولد الملاعنة: ميراثه كله (لأمه) (٢)، فإن لم (يكن) (٣) له أم فهو لعصبته (٤).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لئے ہے، پس اگر اس کی ماں نہ ہو تو اس لڑکے کے عصبہ کے لئے، اور ابراہیم نے فرمایا کہ اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لئے ہے اور اس کی جانب سے دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے، اور یہی حکم ہے ولد الزنا اور نصرانی کی اولاد کا جبکہ اس کی ماں مسلمان ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (محمد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [م]: (تكن).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عبد اللَّه.