حدیث نمبر: 33394
٣٣٣٩٤ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن قبيصة قال: جاءت الجدة بالأم (أو) (١) ابن الابن بعد رسول اللَّه ﷺ إلى أبي بكر فقالت: إن ابن ابني أو ابن ابنتي مات، وقد أخبرت أن لي حقًا، فقال أبو بكر: ما أجد لك في كتاب اللَّه من حق، وما سمعت فيك شيئًا من رسول اللَّه ﷺ وسأسأل الناس، قال: فشهد المغيرة بن شعبة أن النبي ﷺ (أعطاها) (٢) السدس، فقال: من يشهد معك؟ قال: محمد بن ⦗٣٢١⦘ مسلمة، فشهد (فأعطاها) (٣) السدس، وجاءت الجدة التي تخالفها إلى عمر فأعطاها السدس، (فقال) (٤): إذا اجتمعتما فهو بينكما (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قبیصہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک دادی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ماں اور پوتے کو لے کر آئی اور کہنے لگی کہ میرا پوتا اور نواسا فوت ہوگئے ہیں، اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرا بھی ان کے مال میں حق ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تیرے لئے کتاب اللہ میں کوئی حق نہیں پاتا، اور میں نے تمہارے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی بات نہیں سنی، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے یہ گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دادی کو مال کا چھٹا حصّہ عنایت فرمایا ہے، آپ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ اس پر کون گواہی دے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ محمد بن مسلمہ، چناچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی ، اور پھر ایک دوسری دادی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی جو پہلی دادی کے علاوہ تھی، آپ نے اس کو مال کا چھٹا حصّہ دیا اور فرمایا جب تم جمع ہو جاؤ تو یہ مال تمہارے درمیان تقسیم ہوگا، معمر راوی یہ اضافہ کرتے ہیں کہ : اور تم میں سے جو اکیلی ہو تو یہ چھٹا حصّہ اس کا ہی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، م، هـ]: (و).
(٢) في [ب]: (أعطاه).
(٣) في [ب]: (أعطاه).
(٤) في [م]: (وقال).
(٥) منقطع؛ قبيصة لا يروي عن أبي بكر، أخرجه أحمد (١٧٩٧٦)، وأبو داود (٢٨٩٤)، والترمذي (٢١٠١)، وابن ماجه (٢٧٢٤)، والنسائي في الكبرى (٦٣٣٩)، وابن حبان (٦٥٣١)، والحاكم ٤/ ٣٣٨، والطبراني ١٩/ (٥١٠)، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ٩٦، وسعيد بن منصور (٨٠)، وأبو يعلى (١١٩)، وابن الجارود (٩٥٩)، والبيهقي ٦/ ٢٣٤، والبغوي (٢٢٢١)، والمزي ١٩/ ٣٣٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33394
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33394، ترقيم محمد عوامة 31922)