مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في امرأة ماتت وتركت أختها لأبيها (وأمها) وأمها، وأخاها لأبيها، وجدها باب: اس عورت کا بیان جو مرتے ہوئے اپنی ماں، حقیقی بہن اور باپ شریک بھائی اور دادا کو چھوڑ جائے
٣٣٣٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال: قال إبراهيم: في امرأة تركت (١) أمها وأختها لأبيها وأمها وأخاها لأبيها وجدها: قضى فيها زيد أن للأم السدس وللجد (خمسي) (٢) ما بقي (وللأخت) (٣) ثلاثة أخماس، ما بقي رد الأخ على (أخته) (٤) ولم يرث شيئًا، وقضى فيها عبد اللَّه أن للأخت ثلاثة أسهم، وللأم سهم، وللجد سهم، وقضى فيها علي أن للأخت من الأب (والأم) (٥) ثلاثة أسهم و (للأم) (٦) سهم، وبقي سهمان: للجد سهم، وللأخ سهم (٧).ابراہیم اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنی ماں ، حقیقی بہن، باپ شریک بھائی اور دادا کو چھوڑ جائے کہ اس کے بارے میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ماں کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ، دادا کے لئے بقیہ مال کے دو پانچویں حصّے اور بہن کے لئے بقیہ مال کے تین پانچویں حصّے ہیں، بھائی نے اپنی بہن پر مال لوٹا دیا مگر وہ خود کسی چیز کا وارث نہ ہوگا، اور اس بارے میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بہن کے لئے تین حصّے ، ماں کے لئے ایک حصّہ اور دادا کے لئے بھی ایک حصّہ ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مسئلے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حقیقی بہن کے لئے تین حصّے اور ماں کے لئے ایک حصّہ ہے، اور دو حصّے باقی بچے جن میں سے ایک حصّہ دادا کے لئے اور ایک بھائی کے لئے ہے۔ اس طرح یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق چھ حصّوں سے اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان میں پانچ حصّوں سے نکلے گا۔