مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
إذا ترك جده وأخته لأبيه وأمه وأخاه لأبيه باب: اس صورت کا بیان کہ جب کوئی آدمی اپنے دادا، حقیقی بہن اور اپنے باپ شریک بھائی کو چھوڑجائے
٣٣٣٧٥ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل (قال) (١): قال إبراهيم في رجل ترك جده، وأخته لأبيه وأمه، وأخاه لأبيه، فللجد في قضاء زيد الخمسان من عشرة: أربعة أسهم، (ولأخته من أبيه وأمه) (٢) النصف خمسة، ولأخيه لأبيه ⦗٣١٠⦘ سهم، (يرد) (١) الأخ من الأب في قضاء زيد على (٢) الأخت من الأب والأم، كان لها ثلاثة أخماس المالط فأعطيت النصف من أجل أن ثلاثة أخماس أخماس النصف، وليس للأخت (الواحدة) (٣) وإن (قاسمها) (٤) أكثر من النصف (٥).ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو آدمی اپنے دادا، حقیقی بہن اور باپ شریک بھائی کو چھوڑ جائے تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق دادا کے لئے مال کے دو پانچویں حصّے یعنی دس حصّوں میں سے چار حصّے اور اس کی حقیقی بہن کے لئے آدھا مال یعنی پانچ حصّے اور اس کے باپ شریک بھائی کے لئے ایک حصّہ ہے، حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فیصلے میں باپ شریک بھائی حقیقی بہن پر لوٹائے گا، اس کا حق مال کے تین پانچویں حصّے تھا پس اس کو نصف مال دے دیا گیا اس لئے کہ مال کے تین پانچویں حصّے آدھے مال سے زیادہ ہوتے ہیں اور ایک بہن کا حصّہ آدھے مال سے زیادہ نہیں، چاہے بھائی اس کے ساتھ شریک ہوجائے۔ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقی بہن کو آدھا مال اور دادا کو آدھا مال دیا کرتے تھے اور حقیقی بھائیوں اور بہنوں کے ہوتے ہوئے باپ شریک بھائیوں اور بہنوں کو کچھ نہیں دلاتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حقیقی بہن کو آدھا مال دیتے اور بقیہ آدھا مال بھائیوں اور دادا کے درمیان تقسیم کردیتے، اس طرح کہ دادا بھائیوں کا ایک فرد سمجھا جاتا، جب تک دادا کا حصّہ چھٹے حصّے سے کم نہ ہو، اگر بھائی ایک ہو تو باقی آدھا مال دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اور اگر دو ہوں تو نصف مال ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اور اگر تین ہوں تو دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور بقیہ مال بھائیوں کے لئے ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں دو حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مسئلے کو چھ حصّوں سے نکالا کرتے تھے جبکہ بھائی زیادہ ہوں۔