مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في امرأة مسلمة تركت أمها مسلمة ولها إخوة نصارى أو يهود أو كفار باب: اس مسلمان عورت کا بیان جو اپنی مسلمان ماں چھوڑ جائے اور اسکے نصرانی، یہودی یا کافر بھائی ہوں
٣٣٢٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال قال إبراهيم في امرأة مسلمة تركت أمها مسلمة ولها إخوة نصارى أو يهود أو كفار فقضى عبد اللَّه أن لها معهم السدس، وجعلهم يحجبون ولا يرثون، وقضى فيها سائر أصحاب النبي ﷺ أنهم (لا) (١) يحجبون ولا يرثون (٢).فضیل روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے اس مسلمان عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو اپنی مسلمان ماں چھوڑ جائے، اور اس کے نصرانی، یہودی یا کافر بھائی ہوں، کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لئے ان لوگوں کے ہوتے ہوئے چھٹا حصّہ ہے، اور آپ نے ان کو دوسروں کا حصّہ روکنے والا قرار دیا اور خود ان کو وارث نہیں بنایا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باقی صحابہ نے اس مسئلہ کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ نہ دوسروں کے حصّے کو کم کرتے ہیں اور نہ خود وارث ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م کے فیصلے کے مطابق چار حصّوں سے نکلے گا اور یہ عصبہ کا ہوگا اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق پانچ حصّوں سے نکلے گا اور یہ رشتہ داری کی وجہ سے عصبہ بن جانے والے رشتہ داروں کے لئے ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ ان تمام حضرات کے قول کے مطابق چھ حصّوں سے نکلے گا، حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ کی رائے میں ماں کے لئے چھٹا حصّہ ہوگا اور باقی پانچ حصّے بچیں گے، اور باقی صحابہ رضی اللہ عنہ م کی رائے میں ماں کے لئے ایک تہائی مال یعنی دو حصّے ہیں اور بقیہ چار حصّے عصبہ کے لئے۔