مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
رجل مات ولم يترك إلا خالا باب: اس آدمی کا بیان جس نے مرتے وقت صرف ایک ماموں چھوڑا
حدیث نمبر: 33205
٣٣٢٠٥ - حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن (عياش) (١) بن أبي ربيعة (الزرقي) (٢) عن حَكِيم بن حكيم بن عباد بن حنيف الأنصاري عن أبي أمامة بن سهل بن (حنيف) (٣) أن رجلًا رمى رجلًا بسهم فقتله، وليس له وارث إلا خال، فكتب في ذلك أبو عبيدة بن الجراح إلى عمر، فكتب إليه عمر أن رسول اللَّه ﷺ قال: "اللَّه ورسوله مولى من لا مولى له، والخال وارث من لا وارث له" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ بن سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کو تیر مارا جس سے وہ آدمی مرگیا جبکہ اس کا ایک ماموں کے علاوہ کوئی وارث نہیں تھا تو اس کے بارے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس آدمی کے ولی ہیں جس کا کوئی ولی نہ ہو اور ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (عامر).
(٢) في [هـ]: (الزرفي)، وسفيان يقول: (الزرقي)، وغيره يقول: (المخزومي).
(٣) في [أ، ب، جـ، م]: (حبيب).