مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في امرأة تركت أعمامها أحدهم أخوها لأمها باب: اس عورت کا بیان جس نے اپنے چچا چھوڑے جن میں سے ایک اس کا ماں شریک بھائی تھا
٣٣١٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت أعمامها أحدهم أخوها لأمها، فقضى فيها علي وزيد أن لأخيها لأمها السدس، ثم هو شريكهم بعد في المال، وقضى فيها ابن مسعود أن المال كله له، وهذا (بسبب) (١) يكون في الشرك ثم يسلم أهله بعد (٢).فضیل ابراہیم سے اس عورت کے بارے میں نقل کرتے ہیں جس نے اپنے چچاؤں کو چھوڑا جن میں سے ایک اس کا ماں شریک بھائی تھا، اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کے ماں شریک بھائی کے لئے چھٹا حصّہ ہے، پھر وہ بعد میں ان چچاؤں کے ساتھ مال میں شریک ہوجائے گا، اور اس مسئلے میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ تمام مال اسی کا ہے، اور یہ مسئلہ اس نسب کا ہے جو حالت شرک میں ہو پھر اس کے گھر والے بعد میں مسلمان ہوجائیں۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے قول میں چھ سے نکلے گا اور حضرت عبد اللہ کے قول میں ایک حصّے سے نکلے گا کیونکہ وہ سارا مال اسی کا ہے۔