حدیث نمبر: 33070
٣٣٠٧٠ - حدثنا ابن عيينة عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر قال: كان عند عبد اللَّه فأتاه رجل على فرس أبلق، فقال: تأمرني أن أشتري هذا، قال: (و) (١) ما ⦗٢٣٧⦘ شأنه؟ قال: أوصى إليَّ رجل، وتركه فأقمته في السوق على ثمن، قال: لا تشتره ولا تستسلف من ماله (٢).
مولانا محمد اویس سرور

صلہ بن زفر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے کہا کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں اس مال میں سے کچھ خریدوں ؟ آپ نے پوچھا ” یہ کیسا مال ہے ؟ “ اس نے کہا : ایک آدمی نے مجھے وصیت کی اور یہ مال چھوڑ کر مرا، میں نے اس کو ایک ثمن کے بدلے بازار میں لگا دیا، آپ نے فرمایا اس کو نہ خریدو اور اس کے مال سے کچھ نہ لو۔ ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے صلہ بن زفر سے یہ بات ساٹھ سال پہلے سنی تھی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33070
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33070، ترقيم محمد عوامة 31663)