مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في قوله تعالى: ﴿وإذا حضر القسمة أولو القربى﴾ باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُوا الْقُرْبَی)کا بیان
حدیث نمبر: 32935
٣٢٩٣٥ - جرير عن مغيرة عن إبراهيم في قوله: ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ﴾ قال: (كان إذا) (١) قسم القوم الميراث، وكان هؤلاء شهودا رضخ لهم من الميراث، فإن كانوا أغنياء وأحد منهم شاهد، فإن شاء أعطى من نصيبه وإلا قال لهم قولا معروفا، يقول: إن (٢) لكم فيه حقًا.مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُوا الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُم مِّنْہُ } کی تفسیر میں فرمایا کہ جب لوگ میراث تقسیم کرتے اور یہ لوگ وہاں موجود ہوتے تو ان کو میراث میں سے تھوڑا بہت دے دیا جاتا تھا، اور اگر ورثاء موجود نہ ہوتے اور اس وقت ان لوگوں میں سے کوئی وہاں موجود ہوتا تو اگر اپنے حصّے سے دینا چاہتا تو دے دیتا ورنہ ان سے مناسب بات کہہ دیتا، یعنی یوں کہتا؛ بلاشبہ تمہارا اس مال میں حق ہے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (إذا كان).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (كان).