حدیث نمبر: 32249
٣٢٢٤٩ - (١) حدثنا عبدة عن الزبرقان قال: قلت لأبي رزين: إن عندي مصحفًا أريد أن أختمه بالذهب، وأكتب عند أول سورة آية كذا وكذا، ⦗٤٨٥⦘ (فقال) (٢) أبو رزين: لا (تزيدن) (٣) فيه شيئًا من أمر الدنيا قل ولا كثر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو رزین سے عرض کیا : میرے پاس ایک مصحف ہے میں چاہتا ہوں کہ اس پر سونے کی مہر لگا ؤں اور ہر سورت کے شروع میں لکھ دوں۔ اتنی اور اتنی آیات ؟ تو حضرت ابو رزین نے فرمایا : تم قرآن میں اس چیز کو مت زیادہ کرو جو دنیا کی چیزیں ہیں نہ تھوڑی نہ زیادہ۔
حواشی
(١) في [ك]: زيادة (أخبرنا أبو بكر قال).
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) في [أ، هـ]: (يزيدن).