مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يدعى به (للمسكين) وكيف يرد عليهم؟ باب: مسکین کے لیے دعا کی جائے، اور کیسے ان کی دعا میں کہے
حدیث نمبر: 31853
٣١٨٥٣ - (حدثنا أبو بكر) (١) حدثنا شعبة عن عاصم مولى (لقريبة) (٢) بنت عبد الرحمن بن أبي بكر قال: سمعت قريبة تحدث عن عائشة أنها قالت: لا (تقولي) (٣) للمسكين بورك فيه فإنه (يسأل) (٤) البر والفاجر، ولكن قولي: يرزقنا اللَّه وإياك (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قریبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : تم مسکین کو یوں مت کہو : تمہیں برکت دی جائے۔ اس لیے کہ نیکو کار اور بدکار سوال کرتا ہے۔ لیکن اس طرح کہا کرو ! اللہ ہمیں اور تمہیں رزق عطا فرمائے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ط، هـ]، والمؤلف لا يروي عن شعبة مباشرة فلعله (ابن عياش).
(٢) في [أ، ب، ط]: (العربية)، وفي [هـ]: (القريبة).
(٣) في [ك]: (تقل).
(٤) في [جـ، ك]: (يسل).
(٥) مجهول؛ لجهالة قريبة.