مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما جاء في قراءة: ﴿الم (١) تنزيل﴾ و ﴿تبارك﴾ وما قالوا: (فيهما) باب: جو احادیث سورۃ الم تنزیل اور سورۃ تبارک پڑھنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور بعض حضرات نے جو ان کے بارے میں فرمایا
حدیث نمبر: 31805
٣١٨٠٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن أبي يونس عن طاوس قال: من قرأ: ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ السجدة و ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ كان (له) (١) مثل أجر ليلة القدر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یونس فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : جو شخص رات میں سورت { الم تَنْزِیلُ السَّجْدَۃَ } اور سورت { تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ } پڑھتا ہے تو اسے لیلۃ القدر کے ثواب کے برابر اجر ملتا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ کہ حضرت عطاء کا گزر ہوا۔ ہم نے اپنے ایک ساتھی سے کہا۔ تم ان کے پاس جاؤ اور اس حدیث کے متعلق پوچھو ؟ تو انہوں نے فرمایا : سچ کہا، جب سے میں نے ان دونوں کی یہ فضیلت سنی ہے تو میں نے اس وقت سے ان کو نہیں چھوڑا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].