کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو احادیث سورۃ الم تنزیل اور سورۃ تبارک پڑھنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور بعض حضرات نے جو ان کے بارے میں فرمایا
٣١٨٠٣ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن أبي الزبير عن جابر قال: كان النبي ﷺ لا ينام حتى يقرأ: ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ و ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ سورة الم تنزیل اور سورة تبارک الذی بیدہ الملک پڑھ لیتے۔
٣١٨٠٤ - [حدثنا أبو معاوية عن ليث (١) عن طاوس قال: فضلت ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ ⦗٣٥٤⦘ و ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾] (٢) على سائر القرآن بستين حسنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : سورت { الم تَنْزِیلُ } اور سورت { تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ } کو پورے قرآن پر ساٹھ نیکیوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے۔
٣١٨٠٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن أبي يونس عن طاوس قال: من قرأ: ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ السجدة و ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ كان (له) (١) مثل أجر ليلة القدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یونس فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : جو شخص رات میں سورت { الم تَنْزِیلُ السَّجْدَۃَ } اور سورت { تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ } پڑھتا ہے تو اسے لیلۃ القدر کے ثواب کے برابر اجر ملتا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ کہ حضرت عطاء کا گزر ہوا۔ ہم نے اپنے ایک ساتھی سے کہا۔ تم ان کے پاس جاؤ اور اس حدیث کے متعلق پوچھو ؟ تو انہوں نے فرمایا : سچ کہا، جب سے میں نے ان دونوں کی یہ فضیلت سنی ہے تو میں نے اس وقت سے ان کو نہیں چھوڑا۔
٣١٨٠٦ - قال: فمر عطاء فقلنا لرجل منا: ائته (فاسأله) (١) فقال: صدق، ما تركتهما منذ سمعتهما.