مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في التعزير: كم هو؟ وكم يبلغ به؟ باب: تعزیر کا بیان کتنی سزا ہوگی؟ اور کتنی حد تک پہنچائے جا سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 30801
٣٠٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن جامع عن أبي وائل أن ⦗١٣⦘ رجلًا كتب إلى أم سلمة في دين له قبلها (يُحرج) (١) عليها فيه، فأمر عمر بن الخطاب أن يضرب ثلاثين جلدة، قال بعض أصحابنا: كلها يبضع و (يحدر) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ام سلمہ کو خط لکھا اپنے قرض کے بارے میں جوان پر لازم تھا اس نے اس خط میں آپ کو پریشان کیا۔ تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس شخص کو تیس کوڑے مارے جائیں گے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (تخرج)، وفي [هـ]: (يخرج).
(٢) في [ب]: (تحدر)، والمراد: أنها موجعة: تبضع اللحم وتحدر الدم، انظر: أحكام القرآن للجصاص ٥/ ١٠١، والتمهيد لابن عبد البر ٥/ ٣٣٠، وغريب الحديث لأبي عبيد ٣/ ٢٤٣، وتهذيب اللغة ٤/ ٢٣٦.