مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في السارق يسرق فتقطع يده ورجله ثم يعود باب: اس چور کا بیان جس نے چوری کی سو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پائوں کاٹ دیا گیاپھر وہ دوبارہ چوری کرتا ہے
حدیث نمبر: 30136
٣٠١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: كان علي لا يزيد على أن يقطع السارق يدًا ورجلًا، فإذا (أتي) (١) به بعد ذلك قال: ⦗٣٧٢⦘ إني لأستحي أن لا يتطهر لصلاته، ولكن أمسكوا (كلبه) (٢) عن المسلمين، وأنفقوا عليه من بيت المال (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس بات پر زیادتی نہیں کرتے کہ وہ چور کا ایک ہاتھ اور پاوئں کاٹ دیتے پس جب اس کے بعد اسے دوبارہ لایا جاتا تو آپ فرماتے : بیشک مجھے شرم آتی ہے کہ یہ اپنی نماز کے لیے بھی پاکی حاصل نہ کرسکے لیکن تم مسلمانوں کو اس کے شر سے دور کردو اور اس پر بیت المال سے خرچ کرو۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) أي: حوصه وأذيته، وفي [هـ]: (كله)، وانظر: الاستذكار (٧/ ٥٤٧).
(٣) منقطع، أبو جعفر لم يدرك عليًا.