مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في السارق تقطع يده؛ يتبع بالسرقة باب: اس چور کے بیان میں جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہو کیا چوری شدہ چیز بھی واپس لی جائے گی؟
حدیث نمبر: 30005
٣٠٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد وليس بالأحمر عن قريش بن حيان العجلي عن مطر الوراق قال: سئل سعيد بن جبير عن الرجل يسرق السرقة فتقطع يده، أيغرم السرقة، قال: كفى بالقطع غرما.مولانا محمد اویس سرور
حضر ت مطر ورآق فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو کیا اس کو چوری شدہ مال کی ادائیگی کا ذمہ دار بھی بنایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹنا ضمان کے طور پر کافی ہے۔