حدیث نمبر: 29750
٢٩٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن جارية لحفصة سحرتها ووجدوا سحرها (واعترفت) (١) به، (فأمرت) (٢) عبد الرحمن بن زيد فقتلها، فبلغ ذلك عثمان فأنكره واشتد عليه، فأتاه ابن عمر فأخبره أنها سحرتها واعترفت به ووجدوا سحرها، فكأن عثمان إنما أنكر ذلك؛ لأنها قتلت بغير إذنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : حضرت حفصہ کی ایک باندی نے آپ پر جادو کردیا اور ان لوگوں نے جادو کا اثر محسوس بھی کیا اس باندی نے اس کا اعتراف کرلیا۔ تو حضرت عبدالرحمن بن زید کے حکم سے اس کو قتل کردیا گیا حضرت عثمان کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس بات کو ناپسند کیا اور اس پر بہت غصہ ہوئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے پاس تشریف لائے اور آپ کو اطلاع دی کہ اس باندی نے حضرت حفصہ پر جادو کیا تھا اور اس کا اعتراف بھی کیا اور ان لوگوں نے اس کے جادو کا اثر بھی پایا تھا۔ پس گویا حضرت عثمان نے اس کو ناپسند کیا اس لیے کہ اس کو آپ کی اجازت کی بغیر قتل کیا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (فاعترفت).
(٢) في [أ، ب]: (فأمر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29750
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29750، ترقيم محمد عوامة 28491)