٢٩٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن حويصة ومحيصة (ابني) (١) مسعود وعبد اللَّه وعبد الرحمن (ابني) (٢) ⦗٢٤٨⦘ فلان (خرجوا) (٣) يمتاوون بخيبر، فعدي على عبد اللَّه فقتل، قال: (فذكر) (٤) ذلك (للنبي) (٥) ﷺ فقال النبي ﷺ (٦): "تقسمون (بخمسين) (٧) فتستحقون"، قالوا: يا رسول اللَّه كيف نقسم ولم شهد؟ قال: "فتبرئكم يهود"، -يعني يحلفون-، قال: فقالوا: يا رسول اللَّه إذن تقتلنا (يهود) (٨) قال: فوداه (رسول) (٩) اللَّه ﷺ من عنده (١٠).حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حویصہ بن مسعود، محیصہ بن مسعود، عبداللہ اور عبدالرحمن یہ چاروں سفر میں نکلے تو ان کا گزر خیبر کے پاس سے ہوا تو عبداللہ پر حملہ ہوا اور اسے مار دیا گیا راوی کہتے ہیں پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پچاس قسمیں اٹھاؤ گے تو تم حقدار بن جاؤ گے۔ انہوں نے کہا : یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں حالانکہ ہم لوگ وہاں موجود نہیں تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہود کو بری کردو یعنی یہود قسم اٹھالیتے ہیں انہوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تب تو یہود ہمیں قتل کردیں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔ (٢٨٣٨٦ م) حضرت ابن یسار نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا ہی نقل کیا ہے مگر یوں فرمایا : عبدالرحمن مقتول کا بھائی بات کرنے گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بلاؤ، بڑے کو بلاؤ پس ان کے بڑے نے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پچاس قسمیں اٹھا لو تم حقدار بن جاؤ یا وہ تمہارے لیے پچاس قسمیں اٹھالیں ؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کیسے کفار لوگوں کی قسمیں قبول کرسکتے ہیں ؟ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔