٢٨٤٢٢ - حدثنا ابن نمير عن عثمان بن حكيم قال: أخبرني عبد اللَّه بن عثمان رجل (من) (١) بني سلول أنه دعاه قومه ليعرفوه، واختاروه لذلك، فأبى وامتنع، فذهب إلى عبد اللَّه بن عمرو فشاوره واستأمره فقال: لا تعرَفنَّ عليهم، (فجاؤوه) (٢) (بالغدوة) (٣) فلم يزالوا حتى ألزموها إياه، فذهب إلى عبد اللَّه بن عمرو فأخبره أنه قد أُكره فقال: أولها شفعة وأوسطها خيانة وآخرها عذاب النار (٤).حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عثمان جو قبیلہ بنو سلول کے آدمی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نے مجھے بلایا تاکہ وہ مجھے نگران مقرر کریں اور اس عہدے کے لیے منتخب کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پا س گئے آپ نے ان سے مشورہ کیا اور ان کی رائے مانگی۔ انہوں نے فرمایا : تم ہرگز ان پر نگران مت بننا، وہ لوگ اگلی صبح پھر آپ کے پاس آگئے اور مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو اس کے لیے مقرر کردیا۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایا کہ مجھے مجبور کردیا گیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا : اس کی ابتدا تو سفارش ہے اور اس کا درمیان خیانت ہے اور ا س کی انتہاء جہنم کا عذاب ہے۔