حدیث نمبر: 27097
٢٧٠٩٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي يزيد المديني قال: غدا عمر على صهيب (فوجده) (١) متصبحًا، فقعد حتى استيقظ، (فقال) (٢) صهيب: أمير المؤمنين قاعد على (مقعدته) (٣) وصهيب (ناعم) (٤) متصبح، فقال له عمر: ما كنت أحب أن (تدع) (٥) نومة ترفق بك (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو یزید مدینی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر حضرت صہیب کے پاس صبح کے وقت آئے تو انہیں صبح کے وقت سویا ہوا پایا۔ آپ بیٹھ گئے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوگئے تو حضرت صہیب نے فرمایا : امیر المؤمنین اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور صہیب ہے کہ وہ صبح کی نیند سویا ہوا ہے ؟ حضرت عمر نے ان سے فرمایا : میں نے یہ بات پسند نہیں کی کہ میں تمہیں میٹھی نیند سے اٹھاؤں۔

حواشی
(١) في [ط]: (فوجدته).
(٢) في [ط]: (قال).
(٣) في [ع]: (معقدته).
(٤) في [أ، هـ]: (نائم).
(٥) في [ط]: (لا تدع).
(٦) منقطع؛ أبو يزيد لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27097
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27097، ترقيم محمد عوامة 25963)