حدیث نمبر: 25105
٢٥١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عرعرة) (١) بن (البرند) (٢) عن أبي (الهزهاز) (٣) قال: دخلت على الضحاك وهو وجع، فقلت: (ألا) (٤) (أعوذك) (٥) يا أبا محمد، قال: بلى، ولا تنفث، قال: فعوذته بالمعوذتين.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو الہزہاز سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں حضرت ضحاک کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ تکلیف میں تھے، میں نے (ان سے) عرض کیا اے ابو محمد ! کیا میں آپ کو دم نہ کروں ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں (بلکہ کرو) لیکن پھونک نہ مارنا، ابوالہزہاز کہتے ہیں : پس میں نے ان کو معوذتین کے ذریعہ دم کیا۔

حواشی
(١) في [ح، ط]: (دعر عره)، وفي: [أ]: (رعرعره).
(٢) في [ح]: (البريد)، وفي [ز]: (الريد)، وفي [ز]: (النريد).
(٣) في [أ، ح، ط]: (الهرهار)، وفي [ز]: (الهرهاز).
(٤) في [أ، ح، ط]: (لا).
(٥) في [أ، ح، ط]: (أعوذ لك)، وفي [ز]: (عوذ لك)، وفي [هـ]: (اعوذ بك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25105
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25105، ترقيم محمد عوامة 24025)