حدیث نمبر: 24942
٢٤٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر عن ابن عون قال: ذكر (النافع) (١) أن ابن عمر كان يشتري إلى الميسرة، فغضب وقال: إنما كان يشتري من قوم قد عرفهم وعرفوه، فيمطلهم السنة والسنتين، وله من الرباع ما لو (شاء) (٢) (لباع) (٣) فقضاهم، وكان ابن عمر إذا أيسر قضى (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت نافع رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مال داری تک خریدتے تھے (کہ جب مال آیا تو رقم ادا کر دوں گا) حضرت نافع غصہ میں آئے اور فرمایا : وہ تو ایسے لوگوں سے خریدتے تھے جن کو وہ جانتے تھے اور وہ ان کو پہچانتے تھے، پس وہ ان کو ایک یا دو سال مہلت دیتے، اور ان کے لئے تاوان بھی تھا اگر وہ چاہتے تو اس کو فروخت کر کے ان کی ادائیگی فرما دیتے، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب صاحب استطاعت ہوئے تو ادا فرما دیا۔
حواشی
(١) في [هـ، ط]: (لنا).
(٢) في [ط]: (شه).
(٣) في [ط]: (لبا).