مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في رجل دفع إلى رجل مالا مضاربة باب: کوئی شخص دوسرے کو مال بطور مضاربت دے
٢٤٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قبيصة قال: حدثنا هارون البربري قال: سألت الحكم و (حمادا) (١) عن رجل دفع إلى رجل مالا مضاربة (وأشهد) (٢) عليه ⦗٢٥⦘ به، فجاء الرجل يريد أن يأخذ (منه) (٣) ماله، فقال: (قد) (٤) دفعته إليك، فقال الحكم: عليه البينة أنه دفعه إليه كما أشهد عليه.حضرت ہارون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو مال بطور مضاربت دیا، اور اس پر گواہ قائم کیے، پھر وہ شخص اُ س سے مال وصول کرنے آیا، تو اس نے کہا کہ میں نے تو مال دے دیا تھا۔ حکم فرماتے ہیں کہ وہ اس بات پر گواہ قائم کرے گا کہ اس نے مال واپس کردیا ہے۔ جس طرح صاحب مال نے اس پر گواہ قائم کیے تھے۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ جس طرح دوسرے معاملات میں اس کی تصدیق کی جاتی ہے اسی طرح معاملہ میں بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ (یعنی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا) ۔