حدیث نمبر: 24691
٢٤٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قبيصة قال: حدثنا هارون البربري قال: سألت الحكم و (حمادا) (١) عن رجل دفع إلى رجل مالا مضاربة (وأشهد) (٢) عليه ⦗٢٥⦘ به، فجاء الرجل يريد أن يأخذ (منه) (٣) ماله، فقال: (قد) (٤) دفعته إليك، فقال الحكم: عليه البينة أنه دفعه إليه كما أشهد عليه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہارون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو مال بطور مضاربت دیا، اور اس پر گواہ قائم کیے، پھر وہ شخص اُ س سے مال وصول کرنے آیا، تو اس نے کہا کہ میں نے تو مال دے دیا تھا۔ حکم فرماتے ہیں کہ وہ اس بات پر گواہ قائم کرے گا کہ اس نے مال واپس کردیا ہے۔ جس طرح صاحب مال نے اس پر گواہ قائم کیے تھے۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ جس طرح دوسرے معاملات میں اس کی تصدیق کی جاتی ہے اسی طرح معاملہ میں بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ (یعنی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا) ۔

حواشی
(١) في [هـ]: (حماد).
(٢) في [جـ]: (فاشهد).
(٣) في [ز]: ساقطة.
(٤) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24691
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24691، ترقيم محمد عوامة 23623)