مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كان يستحلف الرجل مع (بينته) باب: جو حضرات گواہ کے ساتھ قسم لیتے ہیں
حدیث نمبر: 24574
٢٤٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن محمد قال: أقام رجل على رجل بينته، فقال خصمه: يمينه أحب إليَّ من شهوده، (فاستحلفه) (١) (رجل) (٢) فنكل فقال شريح: بئس ما (أثنيت) (٣) على شهودك، (ورد) (٤) شهادتهم.مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے پر گواہ قائم کیے اس کے خصم نے کہا : اس کی قسم مجھے اس کی گواہی سے زیادہ پسند ہے۔ پھر اس سے قسم طلب کی تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت شریح نے فرمایا : تو نے جو اپنی گواہی کی تعریف کی ہے وہ بہت بُری ہے، اور ان کی گواہی رد ہے، حضرت عبد اللہ بن عتبہ نے فرمایا : جس حق پر تو قسم نہیں اٹھائے گا میں وہ حق تجھے نہیں دوں گا۔
حواشی
(١) في [ز]: (فحلفه).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ح، ط]: (أليت).
(٤) في [ح]: (أردد).