مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
فيما لا ينبغي للشاهد أن يتكلم به باب: جس کے متعلق کلام کرنا گواہ کے لئے مناسب نہیں
حدیث نمبر: 24529
٢٤٥٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان: لو شهد رجلان على رجل أنه طلق امرأته ثم رجعا عن شهادتهما، قال: الطلاق باق، إن لم يكن ⦗٥٣١⦘ (دخل) (١) بها (رجع) (٢) الزوج (عليهما) (٣) بنصف الصداق، وإن كان قد دخل بها فلا شيء عليهما -يعني من الصداق.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے مروی ہے کہ اگر دو شخص کسی شخص کے خلاف اس بات کی گواہی دیں کہ اس نے بیوی کو طلاق دی ہے، پھر ان دونوں نے اپنی گواہی سے رجوع کردیا، فرمایا : اگر تو زوج نے دخول نہیں کیا تھا تو طلاق قائم رہے گی اور زوج ان گواہوں سے نصف مہر کا رجوع کرے گا اور اگر زوج دخول کرچکا تھا تو پھر گواہوں پر کوئی چیز ادا کرنا لازم نہ ہوگی۔
حواشی
(١) في [هـ، ط]: (دخله).
(٢) في [هـ، أ]: (دخل).
(٣) في [ط، ز]: (عليها).