مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (الحكم) يكون هواه لأحد الخصمين باب: فیصلہ کرنے والے کا جھکائو خصمین میں سے کسی ایک کی طرف ہو
حدیث نمبر: 24464
٢٤٤٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) (حماد) (٢) بن سلمة عن قتادة أن أبا موسى الأشعري قال: لا ينبغي لقاض أن يقضي حتى يتبين له الحق كما يتبين (الليل) (٣) من النهار، قال: فبلغ ذلك عمر فقال: صدق أبو موسى (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ا بو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قاضی کے لئے فیصلہ کرنا اس وقت تک مناسب نہیں ہے جب تک کہ حق اس کے لئے ایسے واضح نہ ہوجائے جیسے رات دن سے ظاہر ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی تو فرمایا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [هـ]: (الليل).
(٤) منقطع؛ قتادة لا يروي عن أبي موسى ولا عمر.