حدیث نمبر: 24458
٢٤٤٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن (مجالد) (٢) عن الشعبي عن مسروق عن عبد اللَّه قال: ما من حكم (يحكم) (٣) بين الناس إلا حشر يوم القيامة وملك آخذ بقفاه حتى يقف به على جهنم، ثم يرفع رأسه إلى الرحمن، فإن قال له: اطرحه، طرحه في مهوى أربعين خريفًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان (غلط) فیصلہ کرتا ہے، قیامت کے دن اس کا حشر اس طرح ہوگا کہ فرشتہ نے اس کو پکڑ کر جہنم پر کھڑا کرے گا، پھر وہ اپنا سر رحمان کی طرف اٹھائے گا، اس کو کہا جائے گا، اس کو جہنم میں ڈال دو ، اس کو چالیس خریف کے فاصلہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کروں یہ مجھے ایک سال اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ز، هـ]: (عبد السلام).
(٢) في [جـ، ز]: (المجالد).
(٣) في [ط، أ]: (محكم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24458
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد ضعيف، وأخرجه مرفوعًا أحمد (٤٠٩٧)، وابن ماجه (٢٣١١)، والدارقطني ٤/ ٢٠٥، والطبراني (١٠٣١٣)، والبيهقي ١٠/ ٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24458، ترقيم محمد عوامة 23414)