مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كان يقضي بالشفعة للجار باب: جو حضرات پڑوسی کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرماتے ہیں
حدیث نمبر: 24207
٢٤٢٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (أسامة) (١) (عن حسين المعلم) (٢) عن عمر وابن شعيب عن عمرو بن الشريد عن أبيه قال: قلت: يا رسول اللَّه! أرض ليس [فيها (لأحد) (٣)] (٤) قسم ولا شرك إلا الجوار، قال: " (الجوار) (٥) أحق بسقبه ما كان" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثرید فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک زمین میں کسی کے لئے کوئی حصہ اور شرکت نہیں ہے، صرف اس کا پڑوسی ہے، اس میں شفعہ کس کا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: (شامه).
(٢) انفرد بهذه الزيادة نسخة [هـ]، وقد أثبتها المؤلف في المسند (٩١١)، وذكرها من روى الحديث من طريق المؤلف كابن ماجه والطبراني والطحاوي.
(٣) (لأحد): سقط من: [جـ].
(٤) في [ز]: (لأحد فيها).
(٥) في [س، هـ]: (الجار).