حدیث نمبر: 24120
٢٤١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الوليد بن عيسى السعدي قال: قلت للحسن: إن لنا تيوسا نؤاجرها، قال: لا بأس ما لم (تحلب) (١) أو (تبسر) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا : ہماری بکریاں ہیں ہم ان کو اجرت پر دیتے ہیں۔ فرمایا : جب تک دودھ نہ نکالے اور جفتی کے لئے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [ح، ط]: (يحلب)
(٢) أي تطرق الفحل قبل أن تطلبه الشاة، انظر: غريب الحديث لابن قتيبة (٢/ ٦٠٩)، وغريب الحديث لابن الجوزي (١/ ٧٠)، والنهاية (١/ ١٢٦)، لسان العرب (٤/ ٥٧)، وفي [ز، جـ]: (سر)، وفي [هـ]: (سس).