حدیث نمبر: 23700
٢٣٧٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع عن موسى بن (طريف) (١) قال: دخل عليٌ، بيت المال (فاضرط) (٢) به، (و) (٣) قال: (واللَّه) (٤) لا (أمسي) (٥) وفيك درهم، فدعا رجلا من بني أسد فقال: أقسمه، فقسمه حتى أمسى، (فقالوا) (٦): لو (عوضته) (٧) (قال) (٨): إن شاء، ولكنه سحت، ⦗٣١٣⦘ فقال: لا حاجة لنا في (سحتكم) (٩) (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیت المال میں داخل ہوئے، پس ہلکا سمجھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم میں نہیں رات کروں گا جبکہ تجھ پر ایک درہم بھی ہو، پھر آپ نے بنو اسد کے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے فرمایا کہ تقسیم کرو ، وہ تقسیم کرتا رہا یہاں تک کہ شام ہوگئی، لوگوں نے کہا کہ اگر آپ کو اس کا عوض دیا جائے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ چاہے، لیکن یہ ناجائز ہے، فرمایا ہمیں تمہارے حرام اور ناجائز چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ط]: (ظريف).
(٢) أي استخف.
(٣) سقط من [هـ].
(٤) في [ز، جـ، ح]: زيادة (واللَّه).
(٥) في [ز]: (أمشي).
(٦) في [هـ]: (فقال الناس)، وفي [أ]: (فقال).
(٧) في [أ، ط]: (عرفته).
(٨) في [جـ]: (وقال)، وفي [ز]: (فقال).
(٩) في [ز]: (سحتك).