مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في المكاتب يقول لمواليه: أعجل لك وتضع عني باب: مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
حدیث نمبر: 23656
٢٣٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال في الرجل (١) يكاتب غلامه على (دراهم) (٢) إلى أجل مسمى، فيقول له (قبل) (٣) محل الأجل: عجل (لي) (٤) وأضع عنك، لم ير (به) (٥) بأسا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنے غلام کو مقررہ مدت کے لئے کچھ دراہم پر مکاتب بنائے، پھر وقت مقررہ سے پہلے اس کو کہے کہ جلدی ادا کر میں بدل کتابت میں کمی کر دوں گا، تو اس میں کوئی حرج نہیں، فرماتے ہیں کہ میں نے سوائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اور کسی کو نہیں دیکھا جو اس کو ناپسند کرتا ہو، بیشک اس کو ناپسند کرتے تھے البتہ سامان کے بدلہ میں جائز سمجھتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ، ط]: زيادة (كان).
(٢) في [هـ، ح]: (درهم).
(٣) في [ط]: (اقبل).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) سقط من [هـ، ز].