حدیث نمبر: 23587
٢٣٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد (أن عديًا) (١) (كتب) (٢) إلى عمر بن عبد العزيز في رجل كاتب غلاما له وشرط (عليه) (٣) سهما من ميراثه، ⦗٢٧٩⦘ فكتب أنه ليس لأحد شرط (ينقض أو ينتقص) (٤) شيئًا من فرائض اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عدی نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا ہے، اور اس نے میراث میں سے ایک حصہ کی اپنے لئے شرط لگائی ہے، حضرت عمر نے جواب تحریر فرمایا کہ : کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ شرط لگا کر اللہ کے فرائض میں سے کمی کر دے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (بن عدي أنه).
(٢) في [ط، أ]: (أكتب).
(٣) في [أ، ط]: (عليهما).
(٤) في [هـ، ح]: (ينقص أو يتبعض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23587
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23587، ترقيم محمد عوامة 22597)