مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان لا يرى المسح عليها، ويمسح على رأسه باب: ان حضرات کا بیان جو عمامہ پر مسح کے قائل نہیں بلکہ ان کے نزدیک سر کا مسح کیا جائے گا
حدیث نمبر: 233
٢٣٣ - حدثنا وكيع بن الجراح عن الربيع بن سليم عن (أبي لبيد) (١) قال: رأيت عليا (أتى) (٢) الغيط على بغلة له، وعليه (إزار ورداء) (٣) وعمامة وخفان، فرأيته بال، ثم توضأ، فحسر العمامة، فرأيت رأسه مثل راحتي، عليه مثل خط الأصابع من الشعر، فمسح برأسه، ثم مسح على خفيه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لبید کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے خچر پر سوار ہو کر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئے، اس وقت آپ نے ایک ازار، ایک چادر، عمامہ اور دو موزے زیب تن فرما رکھے تھے، آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور عمامہ کو اتار دیا، میں نے دیکھا کہ آپ کا سر میری ہتھیلی کی طرح ہے جس پر انگلی کی لکیروں کی طرح بال ہیں۔ آپ نے پہلے سر کا مسح فرمایا پھر موزوں کا۔
حواشی
(١) حاشية [خ]: (لمازة بن زيار).
(٢) في [د]: (العيض).
(٣) في [أ]: (أبا الغيض).