حدیث نمبر: 23171
٢٣١٧١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن أبي رباح، قال: كان بين رجلين من الحي خصومة، فشهد لأحدهما أخوه لأبيه وأمه عند شريح، فقال (للرجل) (١): أنت أخوه؟ (قال) (٢): فهل لك من الذي تشهد عليه شئ؟ قال: لا، (فقال) (٣) لخصمه: فبأي شيء أرد شهادته.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ محلہ کے دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک کے لیے اس کے بھائی نے حضرت شریح رحمہ اللہ کے سامنے گواہی دی، دوسرے شخص نے کہا کہ تو اس کا بھائی ہے، حضرت شریح رحمہ اللہ نے دریافت فرمایا کہ : کیا تیرے لئے کوئی چیز ہے اس شخص سے کہ تو اس پر گواہی دے ؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے خصم سے فرمایا پھر کس چیز کی وجہ سے تو اس کی گواہی کو رد کر رہا ہے ؟

حواشی
(١) في [ز]: (على الرجل).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ، ز]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23171
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23171، ترقيم محمد عوامة 22216)