مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
(في) شهادة السمع (أله) أن (يشهد) بها؟ باب: کیا صرف سن کر گواہی دینا درست ہے؟
٢٣١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عنِ الحسن (بن) (١) فرات عن أبيه فرات قال: كان لي على رجل (خمسون) (٢) درهمًا، فذهبت أتقاضاه ورجل يسمع، فقمت به إلى شريح فجحدني فقال شريح: بينتك، فقلت: رجل كان يسمع وهو مقر (لي) (٣) فقال: ادع به، فدعوت به فشهد، فقال: قم فأعطه حقه.حضرت فرات سے مروی ہے کہ میرے پچاس درہم کسی شخص کے اوپر تھے، میں اس کے پاس گیا، اس سے قرض کا مطالبہ کیا، اور ایک شخص یہ سب کچھ سن رہا تھا ، میں اس کو حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس لے کر حاضر ہوا، اس نے میرا انکار کردیا، حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا : تیرے گواہ کہاں ہیں ؟ میں نے عرض کیا : ایک شخص یہ سب کچھ سن رہا تھا جبکہ اس نے میرے درہموں کا اقرار کیا تھا، آپ نے فرمایا اس شخص کو بلاؤ، میں نے اس کو بلایا اور اس نے گواہی دی ، حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس شخص سے فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور اس کو اس کا حق ادا کرو۔