حدیث نمبر: 22915
٢٢٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: من باع حبلى (١) (أو) (٢) أعتقها واستثنى ما في بطنها، (قال) (٣): له (ثنياه) (٤) فيما قد استبان خلقه، وإن لم يستبن خلقه فلا (ثنيا) (٥) له.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص حاملہ باندی کو فروخت کرے یا آزاد کر دے اور اس کے بطن میں جو بچہ ہے اس کو مستثنیٰ کر دے ، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اگر بچے کی خلقت ظاہر ہوگئی تو استثناء ٹھیک ہے ، اور اگر خلقت ظاہر نہ ہوئی تو استثناء ٹھیک نہیں۔

حواشی
(١) في: [جـ، ز]: زيادة (إشتنط).
(٢) في [أ، جـ، ح، س، ز]: (و).
(٣) في [جـ]: (فقال).
(٤) في [ط]: (يثناه).
(٥) في [س، هـ]: (شيء)، وفي [جـ]: (تسأله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22915
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22915، ترقيم محمد عوامة 21979)