مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يضطر إلى مال المسلم باب: اگر کوئی شخص کسی مسلمان کے مال کو بغیر اجازت حاصل کرنے اور استعمال کرنے پر مجبور ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22913
٢٢٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه قال: ذكروا الرجل يضطر إلى الميتة وإلى مال الرجل المسلم، فقلت: يأكل الميتة، (وقال) (١) عبد اللَّه بن (دينار) (٢): (٣) يأكل مال الرجل المسلم، فقال سعيد ابن المسيب: أصبتَ، إن الميتة (٤) تحل له إذا اضطر، ولا يحل له مال المسلم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ کے والد فرماتے ہیں کہ ایک مجلس میں ذکر چلا کہ اگر ایک آدمی مجبور ہو اور اس کے سامنے مردار اور مسلمان کا مال ہوں تو وہ کیا کھائے، میں نے کہا کہ مردار کھالے۔ حضرت عبد اللہ بن دینار نے فرمایا مسلمان کا مال کھالے، حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا : آپ نے ٹھیک فرمایا جب آدمی مجبور ہو تو اس کے لئے مردار کھانا حلال ہوجاتا ہے لیکن مسلمان کا مال مجبوری میں بھی حلال نہیں ہوتا۔
حواشی
(١) في [ط]: (قال).
(٢) في [ز]: (مسلم) بدل (دينار).
(٣) في [ز]: زيادة (عن).
(٤) في [ط]: زيادة (لا).