مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الجارية متى يجوز عطيتها؟ باب: عورت اور باندی کا عطیہ ( ہدیہ) کب جائز ہے؟
حدیث نمبر: 22848
٢٢٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه (عن) (١) عثمان بن الأسود عن عطاء ومجاهد قالا لليتيمة (خناقان) (٢): لا يجوز لها شيء في مالها حتى تلد ولدًا (أو تمضي) (٣) عليها سنة في بيت زوجها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ خناقان کی یتیمہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کے لئے اپنے مال سے ہبہ کرنا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ وہ بچہ جَنْ دے یا اپنے خاوند کے مکان میں ایک سال گذار لے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (بن).
(٢) أي: مانعان، وفي [أ، ح، ط]: (حباقان).
(٣) في [ط]: (وتمضي).