مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الجارية متى يجوز عطيتها؟ باب: عورت اور باندی کا عطیہ ( ہدیہ) کب جائز ہے؟
حدیث نمبر: 22844
٢٢٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن مجالد عن عامر قال: قرأت (كتاب) (١) عمر إلى شريح بذلك، وذلك أن جارية من قريش قال: لها أخوها وهي مملكة: تصدقي علي بميراثك من أبيك قبل أن تذهبي إلى زوجك، ففعلت ثم طلبت ميراثها فرده عليها (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب پڑھا گیا جس میں تحریر تھا کہ قریش کی ایک باندی سے اس کے بھائی نے کہا کہ اپنے شوہر کے گھر جانے سے پہلے اپنے والد کی میراث میرے حوالہ کر دے ( مجھے صدقہ کر دے ) اس نے ایسا ہی کیا پھر اس نے بھائی سے میراث طلب کیا تو اس نے اس کو واپس لوٹا دیا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (كاب).