مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في بيع المجازفة لما قد علم كيله باب: جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
حدیث نمبر: 22766
٢٢٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الربيع (عن) (١) نافع قال: لقد رأيتنا وفينا أصحاب رسول اللَّه ﷺ يجاء بالأوساق (فتلقى) (٢) (بالمصلى) (٣) فيقول الرجل: كلتُ كذا وكذا، ولا أبيعه مكايلة، إنما أبيعه مجازفة فلم يروا به بأسًا (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا کہ ان کے سامنے غلے کے وسق لائے جاتے تھے اور ایک آدمی کہتا کہ میں نے ان چیزوں کو کیل کر کے لیا ہے میں انہیں کیل کے حساب سے نہیں بلکہ اندازے سے بیچوں گا۔ اصحاب نبی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (بن)، وهو الربيع بن صبيح.
(٢) في [ط]: (فنلقى).
(٣) في [جـ، ز]: (في المصلى).