مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كان يحط عن الكاتب في أول نجومه باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مکاتب جب بدل کتابت کی ادائیگی کرے تو پہلے قسط میں کچھ کمی (رعایت ) کرنی چاہیے
٢٢٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي شبيب (١) عن عكرمة عن ابن عباس أن (عمر) (٢) كاتب عبدًا له يكنى أبا أمية، فجاءه بنجمه حين جاء فقال: يا (أبا) (٣) أمية استعن به في مكاتبتك، فقال: يا أمير المؤمنين، لو تركته حتى يكون في آخر نجم، قال: إني أخاف أن لا أدرك (ذلك) (٤) ثم قرأ: ﴿وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ (٥).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا جس کی کنیت ابو امیہ تھی، جب وہ بدل کتابت کی قسط لے کر حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے ابو امیہ ! اپنے بدل کتابت میں مدد طلب کر ، اس نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ ! اگر آپ کو آخری قسط تک رہنے دیں (تو بہتر ہے) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تو اس کو نہ پائے گا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک کی آیت { وَآتُوہُمْ مِنْ مَالِ اللہِ الَّذِی آتَاکُمْ } تلاوت فرمائی۔ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بدل کتابت کی پہلی قسط ہے جو اسلام میں ادا کی گئی۔