حدیث نمبر: 22503
٢٢٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن ثعلبة بن (أبي) (١) ⦗١١⦘ الفرات الأنصاري قال: (بعت) (٢) قومًا ثوبًا وارتهنت منهم رهنا إلى أجل، فلما حل الأجل اشتريت منهم نخلا (بمالي) (٣) عليهم (فقبضته) (٤) ويبسته في رؤوس النخل، فوقع (منه) (٥) (عزق) (٦) فاخذته ثم (جاؤوني) (٧) الذين باعونيه، فرغبوا إلي في (التمر) (٨) فبعته منهم إلى أجل، فأكثر الناس في ذلك فسألت سالما وقصصت عليه القصة، فقال: كان في نفسك أن تبيعه منهم؟ (قلت) (٩): لا واللَّه ولا خطر على قلبي، فقال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثعلبہ بن فرات انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قوم کے لوگوں کو کپڑا فروخت کیا اور ایک خاص مدت کے لئے پیسے رہن رکھوا دئیے، جب مقررہ مدت مکمل ہوگئی تو ان پیسوں کے بدلے میں ان سے کھجور کے درخت خرید لئے، اور ان پر قبضہ کرلیا اور اس کے پھل کو درخت پر ہی سکھایا، وہ خوشے بن کر پھل دار بن گئے تو میں نے ان کو اتار لیا، پھر جن لوگوں نے مجھے فروخت کیا تھا وہ میرے پاس آئے اور اس پھل کی طرف رغبت کرنے لگے، میں نے وہ پھل ان کو ایک مقررہ مدت کے لئے فروخت کردیا، اس بارے میں لوگوں نے بہت سی باتیں کیں تو میں نے حضرت سالم رحمہ اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا اور ان کو یہ سارا قصہ سنایا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہارے دل میں تھا کہ میں دوبارہ انہی کو فروخت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں خدا کی قسم میرے دل میں یہ خیال بھی نہ گذرا تھا، آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں، پھر میں نے حضرت قاسم رحمہ اللہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے بھی دریافت کیا کہ کیا تمہارے دل میں یہ خیال تھا کہ دوبارہ انہی کو فروخت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا نہیں خدا کی قسم میرے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ]، وثبتت في باقي النسخ، والذي في كتب التراجم حذفها.
انظر: التاريخ الكبير ٢/ ١٧٥، الجرح والتعديل ٢/ ٤٦٤ و ٩/ ٢١٠، الثقات لابن حبان (٧٨)، ميزان الاعتدال ٨/ ٦٨، لسان الميزان ٢/ ٨٢، ذيل الميزان ١/ ٦٨، الإصابة ٤/ ٢٨٥، التحفة اللطيفة ١/ ٢٣١.
(٢) في [هـ]: (بعثت).
(٣) في [جـ]: (مالي).
(٤) في [ح]: (فقبضه).
(٥) في [هـ]: (منهم).
(٦) في [ح، هـ]: (عرق).
(٧) في [هـ]: (جاءني).
(٨) في [س]: (الثمر).
(٩) في [هـ]: (فقلت)، وفي [أ، ح، ز، ط]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22503
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22503، ترقيم محمد عوامة 21598)